کہانی: "ماں کا آخری جھولا"
ایک چھوٹے سے گاؤں کی کچی گلیوں میں زینب اپنے چھ سالہ بیٹے علی کے ساتھ رہتی تھی۔ شوہر، وقاص، شہر کام کے لیے گیا تھا، لیکن پچھلے دو سال سے کوئی خبر نہیں آئی۔ نہ خط، نہ فون۔ زینب نے سمجھ لیا کہ وہ انہیں چھوڑ چکا ہے۔

غریبی کے سائے میں زینب نے محنت مزدوری کر کے علی کو پالا۔ کبھی گھروں میں جھاڑو، کبھی برتن، کبھی کپڑے سی کر گزارہ کرتی۔ علی بہت ہنس مکھ بچہ تھا۔ وہ اکثر ماں سے کہتا:
"امی، جب ابو آئیں گے تو ہم نئے کپڑے لیں گے نا؟"
لیکن دل کے اندر وہ جانتی تھی… کوئی آنے والا نہیں۔
ایک دن علی کو تیز بخار ہوا۔ گاؤں کا حکیم کچھ نہ سمجھ سکا۔ زینب نے پیسے جوڑ کر اُسے شہر کے اسپتال لے جانے کی ٹھانی۔ لیکن بس کا کرایہ نہیں تھا۔
وہ دن بھر محنت کرتی رہی، بھوکی پیاسی، محض اس لیے کہ کل صبح بیٹے کو اسپتال لے جا سکے۔ رات کو علی نے ہلکی آواز میں کہا:
"امی، مجھے نیند نہیں آ رہی، جھولا دو نا، جیسے بچپن میں دیتی تھیں…"
زینب نے گیلے آنچل سے علی کا چہرہ صاف کیا، اُسے اپنے گھٹنوں پر لٹا کر آہستہ آہستہ جھولنے لگی، لوریاں دیتی رہی۔
"سو جا میرا چاند، ابو خوابوں میں آئیں گے… تیرے لیے نئے جوتے لائیں گے…"
علی آہستہ آہستہ خاموش ہو گیا۔ سانسوں کی رفتار کم ہو گئی۔
صبح جب زینب جاگی، علی ہمیشہ کے لیے سو چکا تھا۔
وہ ماں، جو زندگی سے لڑتی رہی، اُس دن ہار گئی۔
اختتام
کفن میں لپٹا چھوٹا سا جسم، اور زینب کے ہاتھوں میں بندھی وہ گڑیا — جو علی کے لیے بچپن میں بنائی تھی۔ وہ جھولا اب خالی تھا، اور ماں کا دل بھی
Comments