ایک خط جو کبھی نہ پہنچا

 کہانی: "ایک خط جو کبھی نہ پہنچا"

ریحا ایک سیدھی سادی، خوابوں میں بسی ہوئی لڑکی تھی۔ محبت اس کے لیے کتابوں میں لکھی ہوئی ایک خوبصورت کہانی تھی — جس میں ہیرو ہمیشہ آخر میں واپس آتا ہے۔

جب اس کی زندگی میں آصف آیا، تو وہ سمجھ نہ سکی کہ یہ اصلی کہانی ہے یا دھوکہ۔ آصف نرم لہجے میں بات کرنے والا، دل جیتنے والا انسان تھا۔ اس نے ریحا کو وہ سب دکھایا جو محبت میں ملتا ہے — توجہ، وعدے، خوبصورت مستقبل کی باتیں۔

رفتہ رفتہ، وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے۔ ریحا نے اپنی تمام حدیں پار کر دیں، صرف اس بھروسے پر کہ آصف اس سے شادی کرے گا۔ لیکن کچھ مہینے بعد، آصف نے رابطہ توڑ دیا۔ فون بند، پتا بدل گیا۔ ریحا کے لیے سب کچھ جیسے رک گیا ہو۔

اس وقت ریحا کو اندازہ ہوا کہ وہ حاملہ ہے۔

دنیا جیسے دشمن بن گئی تھی۔ ماں باپ نے منہ موڑ لیا، دوست دور ہو گئے۔ ہر طرف سے طعنے، شرمندگی اور بےیقینی۔ ریحا نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ اُس نے خودکشی کا بھی سوچا — لیکن پھر اُس نے اپنے ہونے والے بچے کے دل کی دھڑکن سنی۔

اُسی لمحے ریحا کو احساس ہوا کہ اب وہ اکیلی نہیں ہے۔

وہ باہر نکلی، نوکری کی تلاش کی، اور ایک چھوٹے فلیٹ میں رہنا شروع کیا۔ دن رات محنت کی، پیٹ پر پتھر باندھ کر جیا، لیکن بچے کے لیے ہار نہ مانی۔ بچی پیدا ہوئی، جس کا نام ریحا نے "نور" رکھا — کیونکہ وہ اس کی زندگی کی روشنی تھی۔

کچھ سال بعد، ریحا نے ایک خط لکھا — آصف کے نام۔

“تم نے جو زخم دیے، وہ میرے جسم پر نہیں، میری روح پر لگے۔ لیکن میں آج بھی زندہ ہوں، اپنے بچوں کے لیے، اپنے خوابوں کے لیے۔ تم نے مجھے چھوڑ دیا، لیکن میری بیٹی نے مجھے جینے کا حوصلہ دیا۔ تم اگر واپس بھی آؤ، تو دروازہ کھلا نہیں ملے گا — کیونکہ اب مجھے تمہاری نہیں، خود کی ضرورت ہے۔”

یہ خط کبھی نہیں بھیجا گیا — کیونکہ ریحا کو اب کسی جواب کی ضرورت نہ تھی۔

سبق
محبت صرف لینا نہیں، نبھانا بھی ہوتا ہے۔ جو لوگ چھوڑ جاتے ہیں، وہ کمزور ہوتے ہیں۔ جو تنہا ہو کر بھی جیتے ہیں، وہی اصل ہیرو ہوتے ہیں

Comments