🌧️ "چپ کی چیخ" — زارا کی خاموش جنگ

زارا صرف بارہ سال کی تھی جب اُس نے پہلی بار دنیا کی سنگدلی کو محسوس کیا۔ وہ لاہور کے ایک پسماندہ علاقے میں پیدا ہوئی۔ نہ باپ کا سایہ، نہ ماں کی محبت — صرف دادی کی جھریوں بھرے ہاتھ اور وقت کی کٹھن مار۔
زارا ہر وقت چپ رہتی۔ نہ ہنستی، نہ کسی سے کھیلتی۔ محلے والے کہتے، "بہت عجیب بچی ہے"۔ مگر کوئی نہ جان سکا کہ اس چپ کے پیچھے کیا طوفان چھپا تھا۔
🧤 دادی کی چھاؤں
زارا کا سکول جانا دادی کا خواب تھا۔ لیکن قسمت... جیسے زارا سے روٹھ چکی تھی۔
🛏️ وہ اندھیری رات
ایک رات، دادی کام پر گئی، زارا گھر میں اکیلی تھی۔ محلے کا ایک شخص، جو اکثر میٹھے بول بول کر زارا کو چاکلیٹ دیتا تھا، آیا... اور وہ ہوا جس کا زارا نے تصور بھی نہ کیا تھا۔
اس رات زارا کا بچپن، اُس کا اعتماد، اور اُس کی خاموش مسکراہٹ — سب چھن گیا۔
زارا کچھ نہ بولی۔ صرف ایک چادر اوڑھی، اور کونے میں سمٹ کر ساری رات روتی رہی۔
🕯️ انصاف؟ صرف کتابوں میں
📚 زندگی کی آخری کوشش
زارا نے خود کو پڑھائی میں لگا دیا۔ بولنا چھوڑ دیا، رونا سیکھ لیا۔ وہ چاہتی تھی کسی دن وکیل بنے، اور اُن سب کے لیے آواز بنے جنہیں سنا نہیں جاتا۔
لیکن بھوک، غربت، اور ذہنی زخم انسان کو اندر سے کھا جاتے ہیں۔
🕊️ خاموش رخصتی
سترہویں سالگرہ کی رات، زارا نے دادی کے لیے کپڑے دھوئے، کمرہ صاف کیا، اور چپکے سے چھت پر چڑھ گئی۔ ایک آخری بار آسمان کی طرف دیکھا… اور خود کو فضا کے سپرد کر دیا۔
نیچے صرف ایک چِٹ پڑی تھی:
"میں کمزور نہیں تھی… بس دنیا بہت ظالم تھی۔اگر کبھی میرے جیسی لڑکی سے ملو، تو اُسے سن لینا۔کیونکہ کچھ لوگ چیختے نہیں… بس چپ چاپ مر جاتے ہیں۔"
💔 ایک سوال.
Comments