"اکیلی نہیں ہوں میں"

 "اکیلی نہیں ہوں میں"

ماہین ایک خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی۔ وہ ایک درمیانے طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ اسی دوران اُس کی ملاقات اذان سے ہوئی — ایک پرکشش، باتونی اور دلکش لڑکا جو اپنی باتوں سے کسی کو بھی متاثر کر سکتا تھا۔

اذان نے ماہین سے دوستی کی، اور آہستہ آہستہ وہ دوستی محبت میں بدل گئی۔ ماہین، جو محبت کو ایک مقدس رشتہ سمجھتی تھی، اذان پر دل و جان سے بھروسا کرنے لگی۔ وہ اُس کے ساتھ اپنے مستقبل کے خواب بُننے لگی۔ لیکن اذان کے ارادے کچھ اور تھے۔

ایک دن، جذبات میں بہہ کر دونوں نے وہ قدم اٹھا لیا جس کا انجام ماہین کے لیے بہت سنگین نکلا — وہ حاملہ ہو گئی۔

جب ماہین نے اذان کو اس بارے میں بتایا، تو اُس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اُس نے وعدہ کیا کہ وہ سب سنبھال لے گا… لیکن اگلے ہی دن وہ غائب ہو گیا۔ فون بند، سوشل میڈیا ڈیلیٹ، کوئی پتہ نہیں۔

ماہین کے لیے یہ سب ایک بھیانک خواب بن گیا۔ اُس کے اندر ایک نئی زندگی پل رہی تھی، اور وہ بالکل تنہا ہو گئی تھی۔ معاشرہ، خاندان، دوست — سب اُس پر الزام لگانے لگے۔ کوئی اذان کا ذکر تک نہیں کرتا تھا، سب الزام صرف اُسی پر تھا۔

لیکن ماہین کمزور نہیں تھی۔ اُس نے رو رو کر دن گزارے، مگر ایک دن آئینے میں اپنی آنکھوں میں چمکتی بےبسی دیکھ کر اُس نے خود سے وعدہ کیا — "میں ٹوٹوں گی نہیں، میں اکیلی نہیں ہوں۔"

وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے لگی، پارٹ ٹائم جاب کی، اور بچے کو دنیا میں لانے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے اپنے بیٹے کو جنم دیا اور اُسے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ لوگ کہتے رہے کہ یہ بچہ بغیر باپ کے ہے، لیکن ماہین نے ایک دن سب کے سامنے فخر سے کہا:

"میرا بیٹا بغیر باپ کے ضرور ہے، مگر بغیر محبت کے نہیں۔ اور میں ماں ہوں، باپ بھی بن سکتی ہوں!"

چند سال بعد ماہین ایک کامیاب وکیل بنی — اور وہ خواتین کے لیے کام کرنے لگی جنہیں مردوں نے بےوفائی کا زخم دیا تھا۔

سبق:
یہ کہانی صرف ماہین کی نہیں، بہت سی لڑکیوں کی ہے۔ یہ معاشرہ جب تک صرف لڑکی کو الزام دیتا رہے گا، انصاف ادھورا رہے گا۔ لیکن ایک ماں کی ہمت پوری دنیا بدل سکتی ہے۔

Comments